کورونا اور مسلمان
مہوش اسد شیخ
" صفائی نفس ایمان ہے."
یہ حدیث ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں اس پر عمل کرنے والے ہر بیماری سے محفوظ ہیں اور جو اس پر عمل کرنا گوارا نہیں کرتے وہ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا رہتے ہیں. دوسری الفاظ میں گندگی ہی بیماریوں کا گھر ہے. اب کورونا کو ہی لے لیجئے جو صفائی کا خیال رکھتے ہیں وہ اس موذی مرض سے بچے ہوئے ہیں.
کورونا جرثومہ کے متعلق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض میں مبتلا لوگ جب گھروں سے باہر نکل کر سڑکوں اور راستے پہ چلتے ہیں تو چھینک ، کھانسی یا سانس لینے کے دوران بھی کورونا جرثومے خارج ہو کر زمین پہ گرتے ہیں اور ہمارے جوتوں سے لگ کر ہمارے گھروں میں داخل ہوجاتے ہیں۔
جن گھروں میں باہر کے جوتے باہر ہی اتار کر اندر جانے کی روایت ہے وہ گھرانے کسی حد تک بیماریوں سے محفوظ رہ جاتے ہیں، آجکل کورونا سے محفوظ ہیں اور جنہیں باہر سے آتے ہی نہانے یا ہاتھ منہ دھونے کی عادت ہے.. ان کی یہ عادت سونے پہ سہاگہ ہے، ان کی بہترین ڈھال بنی ہوئی ہے.
بار بار ہاتھ دھونے کے مرض میں مبتلا افراد بھی کورونا جیسے مرض سے محفوظ ہیں.
ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی آدھی آبادی غسل خانے سے فراغت کے بعد بھی ہاتھ نہیں دھوتی. یہی لوگ ہیں جو غلاظت پھیلائے ہوئے ہیں اور بیماریوں کا موجب بنے ہوئے ہیں.
اسلام نے ہمیں پانچ وقت وضو کرنے اور جمعہ کو غسل کرنے کا حکم دے کر ہم پر دراصل بہت بڑا احسان کیا ہے.
جرثومہ کی یلغارنے ہمارے پیارے نبیؐ کی تعلیمات کو مزید اجاگر کردیا کہ صفائی ، ستھرائی سے بڑی حدتک آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے اور کورونا جرثومہ جیسے موذی وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ دھلاہوا لباس جسم کی حفاظت کرتا ہے اور بیرونی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہاتھ، منہ اور باقی جسم کو پاک رکھا جائے۔کورونا وائرس کی وبا ہمارے گناہ اور ہمارے اعمال کی سزا ہے ۔ یہ ایسی آفت نازل ہوئی ہے جس نے ہمیں احساس دلادیا کہ ہماری دولت، طاقت، گھمنڈ سب مثبت ایزدی کے سامان بے بس ہے۔
اللہ کے احکامات کی پیروی میں ہمارا ہی بھلا ہے.
اس موذی مرض کورونا کے سبب خواتین کو بھی بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ اسلامی تعلیمات دراصل ہمارے ہی بھلے کے لیے ہیں. اسلام ہمارا محافظ ہے نہ کہ ہماری آزادی کی راہ میں رکاوٹ.
حجاب جسے یہ خواتین اپنی آزادی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی رہیں، آج اسی کی بدولت اس کورونا سے محفوظ ہیں. ماسک اور حجاب میں کتنی مماثلت ہے.
میری بہنو! سوچو ذرا کہ اک چھوٹا سے ماسک سے چہرے کا ڈھانپنا تمہاری اتنی حفاظت کر رہا ہے تو اندازہ کرو کہ سارے بدن کو ڈھانپ کر رکھنے سے کس قدر فائدہ ہو گا. ہر بیماری سے بھی محفوظ رہو گی اور ہوس زدہ نگاہوں سے بھی.
وہ اسلام جس نے آتے ہی عورت کو عزت بخشی اس کے حقوق دلائے وہ بھلا کیسے اس کی حق تلفی کر سکتا ہے. اپنے ذہن سے فضول خیالات جھٹک دیجیے اور اسلام کومکمل طور پر اپنا لیجیے.
صفائی کا خاص خیال رکھیے. ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے کورونا کے خاتمہ کے لئے اہم کردار ادا کیجیے.
اللہ پاک سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
ختم شد
