کرونا اور مسلمان از قلم زاھرا مغل

 کرونا اور مسلمان 

از قلم :زاھرا مغل





کرونا ایک چھوت کا مرض ہے جو قابل علاج ہے ۔انتہائ صورت میں جان لیوا بھی ہو سکتا ہے دو سال قبل یہ وائرس کی صورت میں نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا ۔تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ وائرس سب سے پہلے ناک میں جاتا ہے سر بھاری رہتا ہے سونگنھے کی حس متاثر ہوتی ہے ذائقہ چلا جاتا ہے۔پھر یہ گلے میں جاتا ہے پھر پھیپھڑوں میں جاتا ہے اور یہ اتنا گاڑھا ہوتا ہے جیسے گم ہو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو لوگ کرونا سے متاثر ہوئے ان کا کہنا ہے کہ قوت مدافعت ختم ہو جاتی بخار سے ہلا نہیں جا سکتا سانس تب تک بحال رہتی جب تک استری سے کپڑا گرم کر کے پیٹھ پہ رکھیں جونہی کپڑا ٹھنڈا ہو سانس اکھڑنے لگتی جو لوگ ہسپتال داخل رہے ان کے تجربات مختلف ہونگے ۔دوائیں وقت پر کھانے سے اور غذا میں سیال اور گرم چیزیں کھانے اور پپیتا کھانے سے خاطر خواہ افاقہ ہوا۔ایسی آفات و بلیات انسان پر پہلی بار نازل نہیں ہوئیں ماضی میں بھی وبائیں آتی رہیں جیسے طاعون کی وبا۔آندھیاں طوفان اور سیلاب اور ڈینگی وغیرہ ۔اگر بہت پیچھے چلے جائیں تو ماضی میں سابقہ انبیاؑ کے دور میں اللہ جی ان کی امتوں کی مسلسل نافرمانیوں پر عذاب بھیجا کرتے تھے ۔عذاب ایسے ہی نہیں آجاتے پہلے اللہ جی صیح اور غلط کا فرق واضح کرتے صیح کے فوائد اور غلط کے مضمرات سے آگاہ کرتے پھر انبیاؑ ہر طرح سے سمجھاتے لیکن جب یہ امتیں باز آنے کے بجائے انبیاؑ ہی کے درپے ہو جاتیں تو اللہ کے نبیؑ دعا کرتے کہ یا اللہ ان پر بھیج وہ عذاب جس سے ہم انہیں ڈراتے کیونکہ یہ ماننے والے نہیں اس پر بھی اللہ جی اپنے انبیاؑ کو ان کے پیروکاروں سمیت گنہگاروں اور ستمگاروں سے الگ ہونے کا کہتے اور پھر عذاب بھیج دیتے جب عذاب آجاتا توبہ کہ مہلت ختم ہو جاتی پھر وہ عذاب کسی طرح نہ ٹلتا۔اب صورت حال مختلف ہے نبی آخر ازمان ؐ کی تشریف آوری کے بعد انبیاؑ کا سلسلہ منقطع ہوگیا موقوف اس لیے نہیں لکھ رہی کہ حضرت عیسیٰؑ آئیں گے تو وہ اسی دین حق اسلام کو قبول کریں گے صلیب توڑیں گے اور مہدی آخرازمان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے۔فی زمانہ ہر امت میں گنہگار اور فاسق و فاجر بھی ہیں نیک و کار بھی ہیں لہذا ہم نہیں جانتے کہ یہ وبا جو اس وقت ہم پر بھیجی گئ یہ عذاب ہے یا آزمائیش۔بعض مصیبتیں آزمائیش ہوتی ہیں جو درجات کی بلندی اور اللہ کے قرب کا ذریعیہ بنتی جن سے ایمان کو تقویت ملتی لیکن بعض مصیبتیں ہمہارے اعمال بد کی سزا ہوتی ہیں عذاب کہہ سکتے ہم انہیں۔اب عذاب اور آزمائیش میں فرق کیسے کر سکتے ہم؟ اس کیلیے متقین و صالحین نے ایک طریقہ بتلایا جانچنے کا۔کہ جو مصیبت آپ کو اللہ کے نذدیک کرے آپ صابر و شاکر رہیں آپ کی زبان ذکر ربانی سے تر رہے مصیبت کے وقت تو سمجھیں وہ مصیبت آزمائیش تھی اور ازمائیش میں تو انبیاؑ اور صالحین ؑ بھی مبتلا کیے گیے۔لیکن جو مصیبت آپ کو اللہ سے دور کر دے آپ مایوس ہو جائیں اللہ سے دور اور شیطانیت کی طرف مائل ہو جائیں سمجھیں وہ عذاب ہے۔قارئین کرام ذرا ہر قسم کےتعصب سے بالا تر ہو کر اپنا اپنا محاسبہ کیجیے کیا مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اللہ کے کتنا قریب ہوئے ؟ شعائر دین پر پابندی حج دو سال سے بند عمرہ بین ہے مساجد میں حاضری کیلیے مخصوص تعداد کواجازت ہے ۔ کیا ہم اللہ کے قریب ہیں ؟ ماضی میں ہم پر جب بھی مصیبتیں آئیں کعبةاللہ کا غلاف پکڑ کر دعائیں مانگنے سے ٹال دی گئیں بارشیں برسیں ۔جب بھی قحط پڑا یا بارش نہیں ہوتی نماز استسقاء کا حکم ہے۔ اللہ کے گھر آباد کرنے سے مصیبتیں ٹل جاتی تھیں لیکن اب کی بار ہمہیں دیار غیر سے عندیہ ملا کہ ہم عبادات ترک کریں یا پھر گھر میں ادا کریں کیونکہ اس طرح بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے۔احتیاط اپنی جگہ ضرور اپنائیں لیکن اس حد تک کہ آپ کی کسی عبادت کو مانع نہ ہو اللہ کی عبادت اللہ کا حق ہے اسے ادا کریں حتی المقدور مساجد کھلی ہیں جتنے بھی نمازی جائیں کچھا کھچ مساجد تو وبا سے پہلی بھی بھری ہوئ نہیں دیکھی جاتی تھیں جو گنے چنے نمازی تھے انہیں مت روکیں شاید ایسے ہی چند ایک لوگ ہیں جن کی استغفار کے سبب عذاب عام نہیں ہو رہے خدارا انہیں مت روکیے کرونا موذی مرض ہے اللہ راضی ہوئے تو کرونا بھی ضرور ختم ہو جائیگا۔