آرٹیکل
آج کا معاشرہ اور ہم
شائستہ میر ؔ آرزو
سوات
کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ "انسان وہی کچھ سیکھتا ہے جو اسے معاشرہ سکھاتا ہے"۔ ہمارے نوجوان نسل کو آج کا معاشرہ جو کچھ سکھا رہا ہے اسے دیکھ کر صاحبِ ایمان لوگوں کے رونگٹے کسی لمحے تو ضرور کھڑے ہونگے۔
جدید معاشرہ مغربی تہذیب کی تقلید بڑے جوش و خروش سے پیش کر رہا ہے۔ اور ہم آنکھیں بند کر کے اس تہذیب کو اپنانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں ۔ آج کا معاشرہ ہمیں اس تہذیب سےمتعارف کروا رہا ہے جو دین سے دوری میں اپنا کردار بڑی احسن اور لوجیکل طریقے سے نبھا رہا ہے۔ ہمارے سادہ لوح نوجوان ماڈرنزم کے نام پر مغربی معاشرے کے اطوار اپنا چکے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ گناہ وقتی طور پر لطف ضرور دیتا ہے اور جس کو اس وقتی لطف کی لت لگ جائے وہ اسے چھوڑنے پر کاہے کو آمادہ ہو سکتاہے۔
ہم بڑوں کے ساتھ وقت گزاری کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں ۔ باپ فکرِ معاش میں سرگرداں، ماں گھر کے جھمیلوں میں مصروف، اساتذہ نصابی سرگرمیوں میں کوشاں ۔ ایسے میں نوجوان نسل سیکھے بھی تو کس سے؟ آج کا معاشرہ سیکھنے کے نام پر انٹرنیٹ کے ذریعے جو بے حیائی اور برائی پھیلا رہا ہے وہ آج کی نسل کو بگاڑنے کے لئے کافی ہے۔
ہمیں تو ہر حال میں تفریح کا سامان چاہیے ہوتا ہے۔ پھر چاہے وہ سامان فیس بک، ٹک ٹاک کی صورت میں ملے یا اس جیسے اور بلاؤں کی روپ میں۔ ہمارے معاشرے نے مغربی ممالک کے فوائد کی خاطر ہمیں یہ تمام سہولیات اور آسانیاں وافر مقدار میں فراہم کیے ہیں۔ علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب فرمایا :
یا رب کہاں جائیں تیرے سادہ بندے
لوٹ لیا دنیا والوں نے دین و دنیا اسکی۔
ہم معاشرے کے پیچھے جا رہے ہیں اور معاشرہ ہمارے پیچھے ۔ یہ رعنائیوں سے بھرا معاشرہ ہمارے لیے مصائب اور مسائل کا باعث بن چکا ہے۔ہم جدید معاشرے کے تقلید کرنے والے جزا کے دن سے غافل ہو چکے ہیں۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہمارہ معاشرہ ہمیں وہ تصویر دکھاتا ہے جو دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔
ہم آج کے معاشرے میں کھو جانے والے لوگ جدید معاشرے کے رنگ میں رنگ چکے ہیں۔ اور اس رنگ سے نکلنے کا راستہ صاحبِ ایمان ہی پار کر سکتا ہے۔ ہم جیسے معاشرے کے اندھے تقلید کرنے والے لوگ نہیں۔
ابھی بھی وقت ہے۔ نکال دیں خود کو ان وقتی رنگینیوں سے اور اوڑھ لے صبغت اللّٰہ ۔ اللّٰہ کا رنگ ۔ جو کہ تمام رنگوں سے احسن و افضل ہے۔ لوٹ آؤ اس معاشرے کی طرف جو صراطِ مستقیم پر مبنی ہے۔ لوٹ آؤ کہ دینی معاشرہ دنیاوی معاشرے سے اعلیٰ و ارفع ہے اور اسی میں فلاح ہے۔
ختم شد
