آج کا معاشرہ اور ہم
حافظہ تہذیب النساء
آج ہمارا معاشرہ شدید بے راہ روی کا شکار ہے۔ ہم لوگوں نے اچھاٸی براٸی اور حلال و حرام میں تمیز کرنی چھوڑ دی ہے۔ صحیح اور غلط کا فرق بھلا کر ہر شخص جاٸز نا جاٸز طریقے سے مال حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہم رشوت اور سود جیسی خطرناک اور مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ قتل و غارت عام ہو چکی ہے۔ بھاٸی بھاٸی کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اولاد والدین کی نافرمان ہے۔
ہمیں غور کرنا ہو گا کہ آخر اس معاشرے کے بگاڑ کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہم بحثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ کیا ہم صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ کیا ہم اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ کیا ہم اپنے اہل و عیال کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے حقوق و فراٸض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔
ہمارا پیارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں ہر طبقے کے لیے راہنمائی موجود ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انسان کی ہر مشکل کا حل بتایا گیا ہے۔اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اسلام کا پیرو کار بننےکے لیے آمادہ ہو۔ اپنا تعلق اپنے رب تعالٰی سے قاٸم کرے۔ ہر کام خالص اللہ عزوجل کے لیے کرے۔ اپنی خواہشات کو اللہ کے لیے قربان کردے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری حالت اتنی ابتر کیوں ہوتی جارہی ہے؟ کہ ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ آئے دن کوٸی نٸی مشکل آن پڑتی ہے۔ گھروں میں نا اتفاقیاں ہیں اور ہمارے خاندانوں کا شیرازہ بکھرا چکا ہے۔
اس سب کی وجہ صرف اور صرف اسلام سے روگردانی ہے۔ چند لوگ ہیں جو اسلام کے احکامات کو اپنی زندگی پر لاگو کیے ہوئے ہیں۔ وہ بھی اسلامی تعلیمات کو بس اپنے گھروں تک محدود رکھتے ہیں۔ خود تہجد چاشت کےپابند ہیں۔ مگر معاشرے کی اصلاح نہیں کرتے۔ اسلامی تعلیمات نے انسان پر صرف اپنی ذمہ داری عاٸد نہیں کی۔ بلکہ اپنے گھر والوں اپنی اولاد، عزیزو اقارب اور اپنے خاندان والوں کی اصلاح کا فریضہ بھی عائد کر رکھا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں سورت البقرہ میں ارشاد فرمایا!
”تم بہترین امت ہو۔کیونکہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور براٸیوں سے منع کرتے ہو۔“
اس آیت میں امت محمدیہ کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ نیکی کا حکم دیتی اور براٸی سے منع کرتے ہیں۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کیا ہم بھلاٸ کا حکم دیتے اور نیکی سے منع کرتے ہیں۔ یقینًا نہیں۔۔۔ اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ براٸیوں کی لپیٹ میں ہے۔ جب ایک فرد اپنی اصلاح کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کرے گا۔تو اس سے ایک اچھا معاشرہ وجود میں آٸے گا۔ اور جب ایک معاشرہ صحیح راستے کی طرف چل پڑے۔ تو دھیرے دھیرے اس کے اچھے اثرات پوری قوم میں منتقل ہوں گے۔ اور پوری قوم میں اصلاح کا جذبہ پیدا ہو گا۔
اگر آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کا دین بر حق ہے۔ اور مرنے کے بعد جزإ سزا کے مراحل پیش آنے والے ہیں۔ تو خدا کے لیے اپنی اولاد، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب کو بھی اس مرحلے کے لیے تیار کریں۔ گھروں کو نماز اور تلاوت قرآن سے آباد کریں۔
ان باتوں پر اگر خلوص دل سے عمل کیا جاٸے۔ تو ہم اپنے معاشرے کو ایک بہترین معاشرہ بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی توفیق عطا فرماٸے۔آمین
