کرونا اور لاک ڈاون
از قلم زاھرا مغل
نومبر ٢٠١٩ کو پہلا کرونا کا کیس رجسٹرڈ ہوا تب سے یہ وبا پورے ملک میں پھیل گئ ۔کسی نہ کسی طرح ہر طبقہ ہر ذات اور ہر برادری کے لوگ اس وبا سے متاثر ہوئے ۔بعض کو بیماری لاحق ہوئ علاج معالجہ ہوا شفا یاب ہوگئے کوئ لقمہ اجل بن گئے ۔یہ تو براہ راست اثرات تھے لیکن جن لوگوں کو وبا نے چھوا نہیں اور وہ ویسے تو محفوظ رہے لیکن لاک ڈاون نے ہر اک کو متاثر کیا غربا اور مزدور طبقہ مالی لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا شکر ہے کہ حکومت وقت نے تعمیری کام کی اجازت دے رکھی کچھ نہ کچھ دال روٹی لوگوں کی چلا رہی۔جو لوگ ملوں میں ملازم تھے مل مالکان نے کام کم ہونے کی صورت میں اکثریت کو چھٹی دے دی یہ سوچے بنا کہ ان کے گھر کیسے چلیں گے ۔سکول جانے والے طلبہ سکول بند ہو جانے کی وجہ سے گھروں میں مقید ان کے قیمتی وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔آنلائین کلاسز کے ذریعیے اس کمی کو پورا کرنے کی حتی الامکان کوشش کی گئ ممکن ہے کچھ حد تک کامیابی نصیب ہوئ ہو۔لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کی روزی روٹی ان طلبہ اور ٹیچرز کی سکول حاضری سے وابستہ تھی ۔جی ہاں ڈرائیور حضرات۔نہ صرف وطن عزیز میں بلکہ بیرون ملک سکولز کالجز کی بسیں چلانے والے ڈرائیور حضرات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان کی بندھی بندھائ تنخواہ رک گئ کیونکہ گاڑیاں رک گئیں ۔کھانے پینے کی اشیاء والی دکانوں پر تو کوئ لاک ڈاون نہیں تھا پر دیگر اشیاء کے تاجر برادری کا دیوالیہ نکل گیا اخراجات وہی پر آمدن صفر کیونکہ دکانیں بند اگر کھلیں بھی تو وقت پر کھلتی گاہک خوفزدہ یا پھر اوقات سے بے خبر ۔کپڑے کی دکانیں بھی بہت عرصہ بند رہیں اس سے شوہر حضرات کو خاطر خواہ فائدہ ہوا کہ بیویوں کی عیدین اور سیزنل شاپنگ کرونا کی نظر ہو گئ۔بحر حال بات بہت لمبی ہو جائیگی مختصر کرتے ہیں۔قدرتی آفات اور وبائیں روکنے پر کسی کو قدرت نہیں ہم بس دعا اور احتیاطی تدابیر ہی اپنا سکتے ہیں ۔اگر اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہم زکوٰة کے نظام کو فعال کریں ہرصاحب حیثیت زکوٰة وقت پر نکالے اور صدقات بھی تو وہ پیسہ ہم متاثرین کی بحالی پر خرچ کر سکتے اس طرح چور بازاری اور بد عنوانی پر بھی کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے ۔اوریہ سب کرنے کیلیے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم آغاز اپنی ذات سے کریں جو کہ بہت مشکل امر ۔ہم باتیں بہت اچھی کر لیتے پر عمل صفر بقول شاعر مشرق
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں سے منہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا
